اردو رات کی 30 شاعری
1: ہم سوچتے ہیں رات بھر کروٹیں بدل کر۔۔ 😢🍁
وہ شخص اِتنا کیوں بدل گیا ہمیں بدل کر ۔۔💔
2: سب سو گئے خوشی خوشی اپنے حال دل سنا کر
اے خدا
کیا میرا کوئی نہیں جو مجهے پوچهے کہ تم کیوں جاگ رہے ہو
3: تمہاری اور میری رات میں بس فرق اتنا نہیں ہے
تمہاری سو کے گزری ہماری رو کے کے گزری ہے
4: رات کی چادر کو کفن سمجھ کر سونا
نہ جانے صبح کس جہاں میں آنکھ کھلے
رات کو دعا مغفرت مانگ لیا کرو
نہ جانے پھر موقع ملے نہ ملے
5: وہی رات بھر تذکرہ تھا تمہارا
وہی نیند بیٹھی رہی منہ بنا کے
6: تاویل ہے وہ زوال کی راتیں کم بخت راتیں ہی تو ہیں
بس اسی کا افسوس ہے کہ راتیں ہیں کہ راتیں ہی رہ جائے گی
7: اسی خیال سے آنکھیں تمام رات جلیں
میں جاگتا ہوں اسے نیند آگئی ہو گی
8: اے رات تم تو آغوش محبت میں سو جایا کرو
ہماری تو عادت ہے چاند کی رکھوالی کرنا
9: جسے بھلانے کا ہم کر کے عہد سوئے تھے
ہوئی جو رات وہی شخص خواب میں آیا
10: تیری یاد آئے تو نیند جاتی رہتی ہے
خواب ٹوٹ جاتے ہیں اب بھی تیری آہٹ پر
11: رات اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے یااللہ آج رات ہم سب کو اچھے پیارے خواب آئے آمین یارب العالمین
12: رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی
دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے
13: سو جاو تمہاری نرم آنکھیں سرخ نہ ہو جائیں نیند سے
ہمارا کیا ہم تو لوگوں سے وفا کرنے کی سزا کاٹ رہے ہیں
14: میری سانس کا کیا بهروسہ کہاں ساتھ چهوڑ جائے
میری ذات سے وابستہ لوگوں مجهے معاف کر کے سونا
15: رات پوری گزار دوں تیری خاطر
اک بار تو کہہ تیرے بن نیند نہیں آتی
16: کسی دن ہم بھی ڈوب جائیں گے اس سورج کی طرح
پھر اکثر تجھے رلائے گا یہ رات کا منظر
17: اپنے وہ ہوتے ہیں جنھیں درد کا احساس ہو
ورنا حال تو رستے میں آنے جانے والے بھی پوچھ لیا کرتے ہیں
18: یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں
مگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے
19: گنگناتے راستوں کی دلکشی اپنی جگہ
اور ان سب کے درمیاں تیری کمی اپنی جگہ
20: میری محبت میں تیرا ساتھ ہو
میرے ہاتھوں میں تیرا ہاتھ ہو
بن جاؤں راہی میں تیرا ہم سفر
گر تیری راہوں میں میری راہ ہو
21: اس راستے پر جو گیا وہ لا پتا ہو گیا
قصہ سنا رہا تھا ایک بزرگ محبتوں کا
22: جو یقین کی راہ پر چل پڑےانہیں منزلوں نےبھی پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پر بہک گئے
23: مت پوچھ کہ ہم ضبط کی کس راہ سے گزرے
یہ دیکھ کہ تجھ پر کوئی الزام نہ آیا۔۔
24: راستے کہاں ختم ہوتے ہیں زندگی کے سفر میں
منزل تَو وہی ہے جہاں خواہشیں تھم جائیں
25: بڑھنے لگے تھے ہم تو حقیقی عشق کی طرف
رستے میں کچھ حسینوں نے بھٹکا دیا ہمیں
26: کوئی ایسی راہ پہ ڈال مجھے ...
جس راہ سے وہ " دلدار " ملے....
کوئی تسبیح دم درود بتا ...؟؟
جسے پڑھوں ۔۔ تو میرا یار ملے
27: ہمارے درمیان جو اٹھ رہی تھی
وہ اک فاصلوں کی دیوار وہ اب پوری ہو گئی ہے
28: وہ دور بیت گیا جب تیرے بغیر ہمیں
سارے شہر کے رستے اُداس لگتے تھے...
29: ســـارے راســـتے میـں خـــود بــنا لــوں گـا
تــم نــے بــس میـرا ہـاتھ پــکڑ کـے چـلنـا ہــے
30: یوں توڑو رابطے مجھ سے یا چاہے راستے بدلو
بھُلا پھر بھی نہ پاؤ گے میرا امکان کہتا ہے
Comments
Post a Comment